باسی مجرم- urdu poetry
24/Aug باسی مجرم- urdu poetry

ہاں ارتکاب ہوا ہے
گھناونے عشق جرم کا
جس کی کال کوٹھری میں
اندر مجھ سے لڑتا ہے
کیا ضرورت تھی تمہیں؟
تین برس بیت گئے
عقل کو خیر بعد کیے

عشق جرم کہتی ہو؟
تم جانتی ہو اس کو؟
پھر شوخی ا مستاں کہاں
شیرین ا زباں کہاں
بے باکی ا رنداں کہاں

جاؤ لڑکی اپنا کام کرو
مت عشق کو بدنام کرو
مغالطے کا کوئی اور سامان کرو

عشق جرم ہوگا سہی
اس نے تم کو چنا نہیں
کو Low-profile criminal
سزاۓ موت نہیں ہوتی
عاشق بدھے نہیں ہوتے
گلاب گر مرجھا جائے
کامل غم صورت دکھتا ہے
نہیں بنتا carrion * وہ
چاہے جتنا ساون ہو

عشق اور شراب
پرانے ہوں تو اچھا ہے
عاشق مر تو سکتا ہی
وہ باسی نہیں ہوتا
عشق جرم ہوگا پر
عشق بھدا نہیں ہوتا

Carrion- A flower that stinks

Dania Khan
Running a household with 2 kids and an office with 20 more ;) Avid reader, passionate writer, traveler, parent and not a very good friend.

One thought on “باسی مجرم- urdu poetry”

Post Comments:

Your email address will not be published. Required fields are marked *