!!شہر میرا جل رہا ہے
31/Oct !!شہر میرا جل رہا ہے

بہتے لہو سے چشم تر
رہتی ہے شب و روز ہاے ابتر
جھرجھری اک آتی تھی روح کو
کا سوچ کر third eye زندگی کی
ہوتا تھا جو پہلے کبھی کبھار
ہوتا ہے ان دنوں ہر روز… اکثر

کہتے ہو اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پے بجلیاں
پر ایسے نشیمن کو تم بوتے ہو خود کر

بولا اپنے خدا سے کل شب جو میں نے
کی بات کرو iPhoneمت
کچھ دلی سکون کی بات کرو
مسکرا دیے وہ یوں
مسکراتا تھا چھڑی تلے اسماعیل جس کر

خواہ دل کے لئے ہو موت مشینوں کی حکومت”
“مجبور ہیں ہم بنا انکے جیا جائے کیونکر

 

 

robotsadtruthaboutourcurrentsituation

 

 

مجبوری کا لفظ، دکھتا ہے بھوت سادہ
آگے سر جھکاے شاہ کے کھڑا سوچے جو پیادہ
پر
!ایسا بھی ہے جان من

ہیں اپنے کرداروں میں ہم کھرّکتے برتن
سوشل میڈیا پے بس ہماری آواز بلند ہو
چنگھاڑتا ساز بلند ہو
اک اندھی ریس کے امیدوار ہوں جسے
خود پرستی کے علمبردار ہوں جیسے

عقل کو کسی کھیس لبادے میں لپیٹ کر
“we have a corrupt prime minister “کہتے ہیں کہ

 

 

corruptionlieswithin

 

 

شہر ہمارے جل رہے ہیں
کنٹینر بروز بڑھ رہے ہیں
بچے معصوم مر رہے ہیں
پر صاحب یہ بحث کر رہے ہیں

سنی تو چاہ نہیں سکتا حسسیں کو
شیعہ ہو تو ہے کافر سراسر
پختون تو عقل کا کر چکا ہے سودا
پنجابی تو خیر سو رہا غیرت بیچ کر

شکایت ہے کے وزیر بنے ظالم اعلیٰ
لینے لپکتے ہو ظلم ہوتا دیکھ کر selfieخود

 

 

sadurdupoetryaboutpakistan

 

 

شہر جل رہا ہے تو کیا؟
چولہا تو بجھا نہیں
کوئی مر رہا ہے تو کیا ؟
تو کٹا نہیں DSL
قدر و روایات نا پید ہیں
فور جی ہے وافر پر

اندھوں کے شہر میں چشموں کی سیل
معقول بڑی معلوم ہوتی ہے آفر

sadurdupoetry
دانیہ خان

٣٠ اکتوبر ٢٠١٦

Dania Khan
Running a household with 2 kids and an office with 20 more ;) Avid reader, passionate writer, traveler, parent and not a very good friend.

2 thoughts on “!!شہر میرا جل رہا ہے”

Post Comments:

Your email address will not be published. Required fields are marked *